تخطَّ إلى المحتوى
انتقل إلى المحتوى

یہ آرکائیو مفت ہے اور قارئین کے تعاون سے چلتا ہے۔

عطیہ

20- قرآن کی تلاوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(1)

اردو2 منٹ کا مطالعہ

1- آپ   (صلى الله عليه وسلم)ایک حزب پڑھتے تھے اوراسکو چھوڑتے نہ  تھے.

2- آپ قرآن پاک ترتیل سے (ایک ایک حرف واضح کرکے) پڑھا کرتے تھے نہ بہت جلدی کرتے نہ بہت رُک, رُک کرپڑھتے بلکہ متوسط طریقہ کواپناتے تھے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم) قرآن کی آیتوں کو الگ الگ کرکے پڑھتے ,ایک ایک آیت پروقفہ کرتے , اورسورتوں کو ترتیل کرکے پڑھتے یہاں تک کہ وہ کافی لمبی بن جاتی.

4- آ پ  (صلى الله عليه وسلم)مد والے حروف جیسے الرحمن الرحیم کو کھینچ کھینچ کرپڑھتے تھے .

5- آپ  (صلى الله عليه وسلم) تلاوت  شروع کرنے سے پہلے شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرتے یعنی" أعوذباللہ من الشیطان الرجیم" پڑھتے تھے. اوربسا اوقات اسطرح پڑھتے ":اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه" میں شیطان مردود کے وسوسہ ,اسکے پھونک, اورجادوسے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں"(ابوداود , ابن ماجہ).

6- آپ   (صلى الله عليه وسلم) کھڑے ,بیٹھے ,لیٹے,باوضو اوربغیروضوہرحالت میں قرآن پڑھتےتھے لیکن حالت جنابت میں قرآن نہیں پڑھتے تھے.

7- آپ  (صلى الله عليه وسلم) بہترین انداز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے, (یعنی ترنّم کے ساتہ پڑھتے تھے) اورفرماتے :"جوقرآ ن کو غناءکے ساتہ نہ پڑھے وہ ہمارے طریقہ پرنہیں ہے" (بخاری) اورآپ   (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"قرآن پاک کو اپنی آوازوں سے زینت بخشو(یعنی خوش الحانی سےپڑھو)"(ابوداود,نسائی,ابن ماجہ)

8- آپ   (صلى الله عليه وسلم)دوسروں کی زبان سےبھی  قرآن سننا   پسند کرتے تھے,

9- جب آپ  (صلى الله عليه وسلم) سجدہ کی آیتوں سے گزرتے تو اللہ اکبرکہ کرسجدہ فرماتے تھے.آپ   (صلى الله عليه وسلم)کبھی سجدہ میں یہ دعا پڑھتے تھے:"سجد وجهي للذي خلقه وصوره ,وشقَّ سمعه وبصره بحوله وقوته"(د,ت, ن).

ميرے چہرہ نے اس ذات كے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اورصورت گری فرمائی , اوراپنے طاقت وقوت سے کا ن اورآنکہ کونکالا.(ابوداود ,ترمذی, نسائی)

اورکبھی یہ دعا پڑھتے :"اللهم احطط عنّي بها وزرا, واكتب لي بها أجرا,واجعلها لي عند ك ذخرا,وتقبلها مني كما تقبّلتَها من عبدك داود"(ت, جه)

اے اللہ تو اس سجدہ کے بدلے میرے گناہ کو مٹادے,اورمیرے لئے اپنے ہاں اجر لکھ لے  ,اوراسے میرے لئے اپنے پاس ذخیرہ بنادے, اوراسے مجہ سے اسی طرح قبول فرما جسطرح تونے اپنے بندے داود علیہ السلام سے قبول فرمایا. (ترمذی,ابن ماجہ)

آپ   (صلى الله عليه وسلم)سجدہ تلاوت سے اٹھنے کے بعد اللہ اکبر نہیں کہتے تھے, نہ ہی کبھی  تشہد اورسلام   پھیرتے تھے.

______________

(1)  (زادالمعاد1/463)

اصل میں شائع ہوا mercyprophet.org

مزید مطالعہ

  1. صحبت حبیب صلى اللہ علیہ وسلم میں چالیس مجلسیں

    تاليف: عادل بن على الشدی ترجمہ : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی نظر ثانی: عطاء الرحمن ضياء الله مختصر بیان: اس کتاب میں پیغمبر صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت , اخلاق و عادات اور خصائل سے متعلق اہم پہلؤوں کو بیا لیس مجلسوں کے ذ…

  2. عبادات ومعاملات اوراخلاق میں محمد کا طریقہ

    تالیف د/أحمد بن عثمان المزید لکچرارشعبۂ اسلامیات جامعۃ الملک سعود ترجمہ شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی مراجعہ عطاء الرحمن ضیاء اللہ

  3. بیالیسویں مجلس آپ (صلى الله عليه وسلم) کی سخاوت

    جودوسخا اورکرم وفیاضی اوررواداری میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا کوئی ثانی نہیں تھا.

  4. اکیتالیسویں مجلس نبی رحمت (صلى الله عليه وسلم) (44)

    خادموں اورغلاموں کے ساتہ آپ (صلى الله عليه وسلم)کی مہربانی ورحمت: اسلام سے ماقبل خادموں اورغلاموں کے کوئی حقوق تھے نہ عزت وتکریم ,جب اللہ رب العالمین نے اسلام کے ذریعہ دنیا کوعزت بخشی توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان سے…

  5. چالیسویں مجلس نبی رحمت (صلى الله عليه وسلم) (3)

    بچوں کے ساتہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی شفقت ومہربانی : آپ (صلى الله عليه وسلم)بچوں کے ساتہ بہت رحیم ومہربان تھے.

منصوبے کی مدد کے لیے ہم سے رابطہ کریں